نئی دہلی،10فروری (آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ اس کی پانچ رکنی بنچ سبریملامعاملے میں نظر ثانی کے محدود حق کا استعمال کرنے کے دوران قانونی سوالات کو وسیع بنچ کو سونپ سکتی ہے۔چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی بنچ نے آئین کے تحت مذہبی آزادی اورآستھا سے متعلق مسائل سے منسلک سات سوال تیار کئے ہیں جن پر نو رکنی آئینی بنچ غور کریگی۔عدالت کا مختلف مذاہب میں مذہبی آزادی کے دائرہ کار کے بارے میں تیار کئے گئے ان سوالات پر 17 فروری سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا خیال ہے۔بنچ کی طرف سے تیار کئے گئے سات سوالات میں مذہب کی آزادی کا دائرہ اور مذہبی آزادی اور مختلف مذہبی مسالک کے عقیدے کی آزادی کے درمیان باہمی اثر کا سوال بھی شامل ہے۔اس نے کہا کہ نو رکنی بنچ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی کے حقوق اور مختلف مذہبی مسالک کے حقوق کے درمیان اس کے کردار پر بھی غور کرے گا۔بنچ مذہبی روایات کے سلسلے میں عدالتی جائزہ لے کر حد اور آرٹیکل 25 (2) (بی) میں بیان کردہ ہندوؤں کے حصوں سے مطلب کے بارے میں بھی غور کریگی۔یہی نہیں، عدالت اس بات پر بھی غور کرے گی کہ کیا کوئی ایسا شخص جو کسی مذہب یا مذہبی فرقے خاص کا رکن نہیں ہوتے ہوئے بھی اس مذہب سے منسلک مذہبی عقائد پر مفاد عامہ کی عرضی کے ذریعے سوال اٹھا سکتا ہے۔عدالت عظمی نے مختلف فریق کی نمائندگی کر رہے وکلاء کو یہ مطلع کرنے کی ہدایت دی کہ وہ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اسی کے بعد بنچ انہیں بحث کے لئے وقت مختص کرے گی۔بنچ نے کہا کہ مرکز کی جانب سے سالسیٹر جنرل تشار مہتہ 17 فروری کو بحث شروع کریں گے اور ان کے بعد سینئر وکیل کے پراسرن بحث کریں گے۔نو رکنی آئینی بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس آر بھانمت، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ایل ناگیشور راؤ، جسٹس ایم ایم شاتاناگوڈر، جسٹس ایس عبدالنذیر، جسٹس ر سبھاش ریڈی، جسٹس بی آر گوی اور جسٹس سوریہ کانت شامل ہیں۔
مختلف مذاہب میں خواتین کے ساتھ تعصب سے متعلق مسائل کو 14 نومبر، 2019 کو اس وقت کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے بنچ کو تفویض کیا تھا۔یہ بنچ نے سبریمالا کیس کے ساتھ ہی مساجد اور درگاہوں میں خواتین کے داخلے اور غیر پارسی شخص سے شادی کرنے والی پارسی خاتون اجناری کے مقدس آگ مقام تک رسائی سے محروم کرنے کی روایت سے متعلقہ مسائل وسیع بنچ کے پاس بھیجے تھے، تاکہ مذہبی آزادی سے متعلق معاملات کے بارے میں ایک عدالتی پالیسی تیار کیا جا سکے۔اس سے پہلے، ستمبر، 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ رکنی بنچ نے 4: 1 کی اکثریت سے کیرالہ کے سبریملا مندر میں 10 سے 50 سالہ عمر کی خواتین کا داخلہ ممنوع کرنے سے متعلق انتظامات ختم کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا۔